مواد پر جائیں
Mawlānā Samiruddin Qasmi Ṣāḥeb کی مہرSamiruddin Qasmi

غلام کب بنایا جائے

Ghulam Kab Banaya Jaye

غلام کب بنایا جا سکے گا

کون قیدی بنایا جا سکتا ہے، قیدی کے ساتھ چار میں سے کیا کیا جا سکتا ہے، اور اسلام نے اِس میں کیا تبدیلی کی

موضوع
فقہ
زبان
اردو
دورانیہ
۶ صفحات
ڈاؤن لوڈ

غلام کب بنایا جائے میں یہ بتایا گیا ہے کہ جنگ میں کون قیدی بنایا جا سکتا ہے اور اُس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جا سکتا ہے۔ اِس میں یہ بات ہے کہ صرف باضابطہ جنگ میں شریک شخص ہی قیدی بنایا جا سکتا ہے، اُس کے علاوہ کسی کو بنانا حرام ہے، اور قیدی کے ساتھ ممکن چار صورتوں میں سے چوتھی مجبوری کے درجے میں اختیار کی گئی ہے۔

پہلا ہی جملہ پہلے نصف کا پورا خلاصہ ہے: ہر آدمی کو غلام نہیں بنایا جاتا۔ صرف وہی جو میدانِ جنگ میں لڑتے ہوئے پکڑا جائے۔ اُس کے علاوہ جو آدمی اپنے گھر پر ہو، کاشتکاری کرتا ہو، یا کوئی اور کام کرتا ہو، یعنی جو جنگ میں باضابطہ شریک نہ ہوا ہو، اُس کو غلام بنانا حرام ہے، اور ایسے لوگ آزاد ہیں۔

دوسرا نصف اُن چار صورتوں پر ہے جو میدانِ جنگ میں پکڑے گئے قیدی کے ساتھ ممکن ہیں، اور وہ ہر ایک کو تولتے ہیں۔

۱۔ قتل کر دیا جائے۔ بہت سے لوگ، وہ کہتے ہیں، اِسے اچھا نہیں سمجھتے، کیونکہ مجبور قیدیوں کو قتل کرنا اچھی بات نہیں اور رحم دلی کے خلاف ہے۔

۲۔ چھوڑ دیا جائے۔ یہ بھی ٹھیک نہیں: اِتنی محنت سے، جان کی بازی لگا کر دشمن کو قید کیا اور اب چھوڑ دیا، یہ عقلمندی کی بات نہیں، کیونکہ اِس کا قوی خطرہ ہے کہ وہ لوگ دوبارہ جمع ہو جائیں اور مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی کریں۔

۳۔ زندگی بھر جیل میں ڈال دیا جائے۔ یہ اوپر کی دونوں سے بھی بُری ہے، اور وہ چار وجہیں دیتے ہیں: قیدی زندگی بھر دیوار کے پیچھے رہے گا، اُسے کوئی فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے گا، نہ شادی بیاہ ہوگی، نہ کھلی فضا میں سانس لے سکے گا؛ اُس کا سارا خرچ قوم پر پڑے گا، اور بیس ہزار قیدی ہوں تو قوم کنگال ہو سکتی ہے؛ جیل کے لیے لمبی چوڑی عمارت بنانا آسان کام نہیں؛ اور پرانے زمانے میں جیل کا نظام تھا ہی نہیں۔

۴۔ قیدیوں کو مجاہدین کے درمیان تقسیم کر دیا جائے: اُن سے کام لیا جائے، کھلایا پلایا جائے، کپڑے دیے جائیں، بہت آسان انداز میں رکھا جائے، اُن پر زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے، طاقت سے زیادہ کام نہ لیا جائے، کھانے پینے میں کمی نہ کی جائے، بلکہ کوشش کی جائے کہ اُن کی شادی بیاہ بھی کرا دی جائے اور اُن کی فیملی بھی بسا دی جائے۔

چوتھی صورت، وہ کہتے ہیں، مجبوری کے درجے میں اختیار کی گئی ہے، کیونکہ خود قیدیوں کے لیے اِس سے بہتر کوئی راستہ نہیں۔ اور آخری بات تاریخی ہے: یہ صورت اسلام سے پہلے سے چلی آ رہی تھی، اسلام نے اُسے برقرار رکھا مگر بہت آسان بنا دیا، اور وہ شرط لگا دی جو صفحے کے سر پر ہے، کہ صرف جنگ میں شریک ہونے والا ہی غلام بنایا جا سکتا ہے، میدانِ جنگ سے باہر ہرگز کوئی نہیں۔

کتاب کھل رہی ہے…

100%