حضرت عائشہؓ کا بچپن میں نکاح
Hazrat Aisha ka Bachpan mein Nikah
حضرت عائشہؓ کا بچپنے میں نکاح، حضرت ابوبکرؓ کا جذبۂ عشق تھا
اِس نکاح کی گیارہ مصلحتیں اور پندرہ حدیثیں، اُس اعتراض کے جواب میں کہ یہ ظلم تھا
- موضوع
- سیرت
- زبان
- اردو
- دورانیہ
- ۳۲ صفحات
حضرت عائشہؓ کا بچپن میں نکاح اُس اعتراض کا جواب ہے کہ چھ سال کی عمر میں نکاح اور نو سال میں رخصتی ایک بچی پر ظلم تھا۔ اِس میں اِس نکاح کی گیارہ مصلحتیں اور پندرہ حدیثیں پیش کی گئی ہیں، اور پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ رشتہ خود حضرت ابوبکر صدیقؓ کی اپنی تمنا تھی۔
جواب دینے سے پہلے وہ اعتراض کو پوری قوت کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔ آج کل اعتراض کیا جاتا ہے کہ نکاح چھ سال کی عمر میں ہوا اور رخصتی نو سال میں؛ اور اِس سے بڑا اعتراض یہ کہ اُس وقت حضور ﷺ کی عمر چوّن سال کی تھی، تو ایک چھوٹی سی بچی کو ایک عمر دراز آدمی کے حوالے کیسے کیا، کیا یہ بچی پر ظلم نہیں؟ اور اِسی سے، نعوذ باللہ، یہ ثابت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ عیاش تھے۔
مضمون دو محاذوں پر بیک وقت جواب دیتا ہے۔ یہ احادیث سے ثابت کرتا ہے کہ یہ نکاح کیوں ہوا، اور یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ حضور ﷺ نعوذ باللہ ہرگز ہرگز عیاش نہیں تھے، بلکہ گیارہ بڑی بڑی مصلحتوں کی وجہ سے یہ نکاح ہوا ہے۔ اِس کے لیے پندرہ حدیثیں پیش کی گئی ہیں۔
اِن گیارہ میں سے پہلی وہی ہے جو اُن کے اپنے سرورق پر لکھی ہے، اور وہ اعتراض کا رخ ہی موڑ دیتی ہے، یہ پوچھ کر کہ یہ رشتہ اصل میں چاہتا کون تھا۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد، وہ کہتے ہیں، حضرت ابوبکر صدیقؓ جیسا سچا عاشق نہ گزرا ہے نہ گزرے گا؛ انہوں نے ہر چیز حضور ﷺ پر قربان کر دی، اور آخر میں اپنی چھوٹی سی بچی کا بھی نذرانہ پیش کر دیا، اور “یہ بات کہنا بہت آسان ہے، لیکن کر گزرنا بہت مشکل”۔ محرک کے بارے میں اُن کا خیال یہ ہے: حضرت ابوبکرؓ نے یہ حدیث سنی تھی کہ آخرت میں کوئی نسب یا کوئی رشتہ کام نہ آئے گا، حضور ﷺ کا رشتہ ہی کام آئے گا۔ انہوں نے دیکھا کہ حضور ﷺ کے رشتے میں تو میں کوئی نہیں ہوں، اُن کے قریبی خاندان کا بھی نہیں، تو قیامت میں میرا کیا ہوگا؟ اُنہیں ایک ہی راستہ نظر آیا: اپنی بچی کو حضور ﷺ کے نکاح میں دے دوں، اور کل قیامت میں حضور ﷺ کا خسر بن جاؤں، یہ بہترین طریقہ ہے جس سے حضور ﷺ کے رشتے میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔ جب پیغام آیا تو خبر سنتے ہی وہ مچل پڑے؛ یہ عشق اِتنا تیز تھا کہ نکاح ہجرت سے دو سال پہلے ہی کر دیا۔
اِس لیے، وہ نتیجہ نکالتے ہیں، یہ کہا جائے گا کہ یہ صرف نکاح نہیں تھا بلکہ حضرت ابوبکرؓ کے ذوقِ جنوں کی تکمیل تھی۔ اور جب ایک باپ خود اِس جنون کے لیے تیار ہو، “اور بہت ہی اچھا جنون ہو”، تو ہم جیسے بے عشقوں کو اعتراض کرنے کا کیا حق ہے۔
اِسی موضوع پر اِس ویب سائٹ پر ایک تفصیلی کام بھی ہے، حضرت عائشہؓ کا نکاح، جو مضمون نہیں بلکہ کتاب ہے۔
کتاب کھل رہی ہے…
آپ اِس صفحے پر رکے تھے: ۔
یہ براؤزر کتاب اِسی صفحے پر نہیں دکھا سکتا۔ اِس کے بجائے پی ڈی ایف کھولیں۔