حضرت امیر معاویہؓ
Hazrat Amir Muawiya
حضرت امیر معاویہؓ ہمارے آنکھوں کے تارے ہیں
تیرہ حدیثوں کی روشنی میں حضرت امیر معاویہؓ کے صحابی اور کاتبِ وحی ہونے کا بیان
- موضوع
- تاریخ
- زبان
- اردو
- دورانیہ
- ۲۱ صفحات
حضرت امیر معاویہؓ میں تیرہ حدیثوں سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ کاتبِ وحی تھے، جلیل القدر صحابی تھے، اور حضور ﷺ نے آپ کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔ اِس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حضرت علیؓ سے آپ کا اصل مطالبہ کیا تھا، جو اِس مضمون کے مطابق سب سے زیادہ غلط بیان کیا جاتا ہے۔
عنوان خود دلیل نہیں بلکہ محبت کا اظہار ہے، حضرت امیر معاویہؓ ہمارے آنکھوں کے تارے ہیں، اور پھر اُس کے نیچے تیرہ حدیثوں سے دلیل قائم کی گئی ہے۔ مضمون مانچسٹر سے لکھا گیا ہے۔
جو باتیں ثابت کرنی ہیں وہ پہلے ہی صفحے پر، کسی دلیل سے پہلے، گنوا دی گئی ہیں:
- آپ کاتبِ وحی تھے۔
- آپ حضور ﷺ کے چہیتے سالے تھے۔
- آپ صحابی رسول ہیں، بلکہ جلیل القدر صحابی ہیں۔
- حضور ﷺ نے آپ کے لیے خصوصی دعا فرمائی: ملک کی فتح کی دعا، اور آپ کے استحکام کی دعا۔
آخری بات ہی وہ ہے جس کے لیے یہ مضمون ہے، اور وہ تعریف سے زیادہ ایک تصحیح ہے۔ اِس میں کہا گیا ہے کہ حضرت معاویہؓ کا حضرت علیؓ سے مطالبہ صرف یہ نہیں تھا کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو سزا دی جائے۔ اصل مطالبہ، اُن کے الفاظ میں، یہ تھا کہ اِس شریر ٹولے نے مدینہ طیبہ کو گھیرا ڈالا ہوا ہے، اور کسی بھی صحابیِ رسول کو مدینہ میں رہنا مشکل ہو رہا ہے، اِس لیے مدینہ طیبہ کو اُن ٹولوں سے خالی کرایا جائے تاکہ صحابہ کرام اور حضرت عائشہؓ وہاں آسانی سے رہ سکیں۔
یہ اِس بات کا دعویٰ ہے کہ جھگڑا اصل میں کس بات پر تھا، اور وہ اِسے بعد کی تاریخوں کے بجائے احادیث پر رکھتے ہیں، اور یہی طریقہ اِس شیلف کی ہر چیز کا ہے۔
کتاب کھل رہی ہے…
آپ اِس صفحے پر رکے تھے: ۔
یہ براؤزر کتاب اِسی صفحے پر نہیں دکھا سکتا۔ اِس کے بجائے پی ڈی ایف کھولیں۔