مواد پر جائیں
Mawlānā Samiruddin Qasmi Ṣāḥeb کی مہرSamiruddin Qasmi

ثمیر الدین قاسمی کے حالات

Samiruddin Qasmi ke Halaat

حضرت مولانا ثمیر الدین قاسمی صاحب دامت برکاتہم کے حالات و واقعات

گھٹّی گاؤں سے دار العلوم دیوبند تک، اور اُس کے بعد، اُن کی زندگی کا بیان

موضوع
متفرق
زبان
اردو
دورانیہ
۴۳ صفحات
ڈاؤن لوڈ

ثمیر الدین قاسمی کے حالات تینتالیس صفحات پر اُن کی زندگی کا بیان ہے: سنِ ولادت اور مقامِ ولادت، شجرۂ نسب، گاؤں کے مکتب سے دار العلوم دیوبند تک تعلیم، اور اُس کے بعد کا کام۔ اِس میں اِس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ جو تحقیق سے معلوم ہے اور جو صرف خاندان میں مشہور ہے، دونوں الگ الگ بتائے جائیں۔

سرورق پر لکھے نام کے بارے میں۔ مضمون ساجد غفر لہ کے نام سے ہے۔ حضرت والا نے فرمایا کہ تحریر اُن ہی کی ہے، کسی اور کے نام سے ہے، اور یہ کہ وہ اِس میں کچھ اضافہ کرنا چاہتے تھے مگر اِسے اِسی حالت میں لگایا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ اُسی حالت میں شائع ہے۔

اِسے پڑھنے کے قابل بنانے والی چیز ابتدائی پیراگراف کی تعریف نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اِس میں معلوم اور مشہور کے درمیان حد بڑی احتیاط سے کھینچی گئی ہے۔ دوسرے ہی صفحے پر دو مثالیں ہیں:

  • سنِ ولادت کے بارے میں، یعنی ۶ نومبر ۱۹۵۰ء مطابق ۲۵ محرم ۱۳۷۰ھ، صاف لکھا ہے: یہ تاریخ تحقیقی نہیں ہے، کیونکہ گھر میں تاریخ لکھنے کا رواج نہیں تھا۔ البتہ قریب قریب یہی تاریخ ہے، اور اِسی کو سرٹیفکیٹ اور پاسپورٹ پر درج کرایا گیا ہے۔
  • شجرۂ نسب کے بارے میں، یعنی ثمیر الدین، والد جمال الدین، دادا محمد بخش عرف لدنی، پردادا چولہائی، قوم شیخ صدیقی، جن کا نسب بہت بعد میں حضرت ابوبکر صدیقؓ سے جا ملتا ہے، لکھا ہے: باضابطہ کوئی شجرہ نہیں ہے، البتہ اُن کے خاندان میں یہی مشہور ہے۔

یہی عادت اِس صفحے کو زینت کے بجائے کارآمد بناتی ہے، اور یہی عادت اُن کی کتابوں کی بھی ہے۔

مقام کا بیان بھی اِسی سادگی سے ہے۔ ولادت گھٹّی، تھانہ مہگاواں، ضلع گڈّا میں ہوئی، جو اُس وقت بہار تھا اور اب جھارکھنڈ ہے۔ یہ گاؤں شہر گڈّا سے چھتیس کلومیٹر دور ہے، اور اِس کے بارے میں لکھا ہے کہ وہاں اب بھی بجلی اور پانی کی سہولتیں نہیں ہیں۔ ابتدائی تعلیم گاؤں ہی کے مکتب میں مولوی عبد الرؤف عرف گونی سے ہوئی، جہاں اردو، ہندی، حساب اور فارسی پڑھی، اِس کے بعد مدارس اور پھر دیوبند۔

ویب سائٹ کا اپنا تعارف کا صفحہ اِنہی حقائق سے بنا ہے، اور تصانیف کی فہرست ثمیر الدین قاسمی کی تصانیف میں ہے۔

کتاب کھل رہی ہے…

100%