مواد پر جائیں
Mawlānā Samiruddin Qasmi Ṣāḥeb کی مہرSamiruddin Qasmi

شوال کے چھ روزے

Shawwal ke Chhe Roze

شوال کے چھ روزے ثابت ہیں

شوال کے چھ روزے ثابت ہیں، اور اُن کے بارے میں وہ حد جو وہ مقرر کرتے ہیں

موضوع
فقہ
زبان
اردو
دورانیہ
۱ صفحہ
ڈاؤن لوڈ

شوال کے چھ روزے اُن حضرات کا جواب ہے جو کہتے ہیں کہ شوال کے چھ روزے ثابت نہیں۔ اِس میں حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی حدیث دو حوالوں کے ساتھ دی گئی ہے، اور پھر ایک حد مقرر کی گئی ہے: حدیث سے ثابت چیز کم از کم سنت ہوتی ہے، مگر اُسے رسم و رواج یا کھانے پینے کا دھندا بنا لینا درست نہیں۔

ایک صفحہ، اور اُس میں ترتیب سے تین کام ہوئے ہیں۔

پہلے اعتراض نقل ہوا ہے: کچھ حضرات نے کہا ہے کہ شوال کے چھ روزے ثابت نہیں ہیں۔ اُن کا جواب یہ ہے کہ یہ بات صحیح نہیں: شوال کے چھ روزے ثابت ہیں، اور اُن کی بہت فضیلت آئی ہے۔

پھر دلیل: حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی حدیث، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اُس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے، تو یہ ایسا ہے جیسے اُس نے پورے زمانے کے روزے رکھے، اور دونوں حوالے چھپے ہوئے ہیں، مسلم شریف اور ترمذی شریف، باب اور نمبر کے ساتھ۔

اور آخری تین سطروں میں وہ دوسری طرف سے ایک حد مقرر کرتے ہیں، اور یہی وہ بات ہے جس کی وجہ سے یہ مضمون محض ایک حوالہ نہیں رہتا:

قاعدہ یہ ہے کہ حدیث میں کوئی چیز ثابت ہو جائے تو وہ کم سے کم سنت ہوتی ہے۔ البتہ اُس کو حدود سے تجاوز کر کے رسم و رواج بنا لینا صحیح نہیں ہے، اور اُس کو کھانے پینے کا دھندا بنا لینا صحیح نہیں ہے۔

آخر میں دستخط: ثمیر الدین قاسمی۔ خود رمضان کے شروع اور ختم ہونے کا مسئلہ حساب پر رمضان کرنا میں ہے۔

کتاب کھل رہی ہے…

100%