مواد پر جائیں
Mawlānā Samiruddin Qasmi Ṣāḥeb کی مہرSamiruddin Qasmi

حساب پر رمضان کرنا

Hisab par Ramadan Karna

حساب پر رمضان اور عید کریں گے تو یہ ۸ حدیثوں اور ۲ آیتوں کے خلاف ہوگا

رمضان اور عید کا فیصلہ حساب پر کرنا آٹھ حدیثوں اور دو آیتوں کے خلاف کیوں ہے

موضوع
اسلامی فلکیات
زبان
اردو
دورانیہ
۱۲ صفحات
ڈاؤن لوڈ

حساب پر رمضان کرنا اُس تجویز کا جواب ہے کہ رمضان اور عید کا فیصلہ فلکی حساب پر کیا جائے اور پوری دنیا کو اُس پر متحد کر لیا جائے۔ اِس میں وہ چار طریقے جمع کیے گئے ہیں جن سے حضور ﷺ نے چاند دیکھ کر مہینہ شروع اور ختم کرنے کی تاکید فرمائی، اور یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ چاند دیکھے بغیر شروع کیے گئے مہینے سے فرض روزہ کیسے ادا ہوگا۔

جس تجویز کا وہ جواب دے رہے ہیں وہ پہلے، اور پوری دیانت کے ساتھ، نقل کی گئی ہے۔ کچھ حضرات بار بار لکھ رہے ہیں کہ اب قطعی حساب مل جاتا ہے، اِس لیے رمضان اور عید کا فیصلہ حساب پر کر لیا جائے اور پورے عالم کو اُس پر متحد کر لیا جائے؛ اور خاص طور پر اِس بات پر زور دیتے ہیں کہ سب سعودی عرب کے کیلنڈر پر آ جائیں، جو رویت سے ایک دن مقدم ہے۔

وہ اہلِ علم سے کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ایک بات پر غور کریں: کیا اِس حساب پر روزے جیسی فرض عبادت واقعی ادا ہو جائے گی؟ اِسے وہ ایک ملک کا نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام کا مسئلہ کہتے ہیں۔

پھر وہ حقیقت صاف لکھ دیتے ہیں۔ سعودی کیلنڈر چاند نظر آنے سے ایک دن پہلے پر بنا ہوا ہے؛ اُس پر رمضان، رمضان سے پہلے شروع ہوتا ہے، اور حقیقت میں رمضان کا مہینہ باقی رہتا ہے، اور لوگ ایک فرض روزہ چھوڑ کر عید کر لیتے ہیں۔ “یہ بالکل حقیقت ہے۔”

مضمون کا اصل حصہ وہ آٹھ حدیثیں اور دو آیتیں ہیں، جو حضور ﷺ کی چار تاکیدوں کی صورت میں مرتب کی گئی ہیں:

۱۔ چاند دیکھ کر ہی روزہ شروع کریں، اور چاند دیکھ کر ہی عید کریں۔

۲۔ چاند دیکھے بغیر ہرگز روزہ شروع نہ کریں، اور ہرگز عید نہ کریں۔

۳۔ اگر چاند آسمان پر موجود ہے پھر بھی نظر نہیں آیا تو لازمی طور پر تیس دن پورے کریں۔

۴۔ اور شدت کے ساتھ اِس کی بھی تاکید فرمائی کہ رمضان سے پہلے ایک دن بھی مقدم نہ کریں۔

آخر میں وہ قاری کے سامنے وہی سوال چھوڑ جاتے ہیں جو اِن سے نکلتا ہے: جب نو حدیثوں میں حضور ﷺ نے اِس طرح چاند دیکھ کر روزہ شروع کرنے اور روزہ افطار کرنے، یعنی عید کرنے کی تاکید فرمائی ہے، تو اب بتائیے کہ چاند دیکھے بغیر روزہ شروع کر دیا جائے، یا عید کر لی جائے، تو فرض روزہ کیسے ادا ہوگا۔

یہی دلیل چاند کی اپنی پوزیشن سے اتحادِ مطلع میں ہے، اور جہاں تاریخ آگے پیچھے ہونے سے عبادت باطل نہیں ہوتی وہ صورت بے وقت حج ہے۔

کتاب کھل رہی ہے…

100%