
ثمرۃ العقیدہ علی ختم النبوۃ ختمِ نبوت پر ایک مختصر اردو رسالہ ہے، جس میں سات قرآنی آیتوں اور اُنیس احادیث سے استدلال کیا گیا ہے۔ اِس میں مرزا غلام احمد کے تین دعووں کو بیان کر کے ہر ایک کا جواب احادیث سے دیا گیا ہے، اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اِس اُمّت کے اُمّتی بن کر آئیں گے، نبی بن کر نہیں۔
ثمرۃ العقیدہ علی ختم النبوۃ ختمِ نبوت پر چھتیس صفحات ہیں، اور اِس مجموعے کی سب سے مختصر کتاب ہے۔ صفحہ پانچ پر کتاب نے اپنی خصوصیات چھ نکتوں میں لکھی ہیں، اور پہلا نکتہ باقی سب پر حاکم ہے: اِس میں استدلال صرف احادیث اور آیتوں سے کیا گیا ہے، تاکہ بات پکّی ہو جائے۔ سات آیتیں اور اُنیس حدیثیں پوری کتاب کو اٹھائے ہوئے ہیں۔
مرزا غلام احمد کے تین دعوے پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں: ظِلّی نبی، مسیحِ موعود، اور مہدیِ معہود۔ ہر ایک کا جواب احادیث سے دیا گیا ہے۔ ایک الگ حصہ اِس پر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اِس اُمّت کے اُمّتی بن کر آئیں گے، نبی بن کر نہیں، اور اِس سے متعلق روایات یکجا کی گئی ہیں۔
چھ نکتوں میں سے دو اِس بارے میں ہیں کہ کتاب کیسے لکھی گئی ہے، نہ کہ اِس بارے میں کہ وہ کیا ثابت کرتی ہے۔ لکھنے کا انداز جان بوجھ کر بہت آسان رکھا گیا ہے، تاکہ مبتدی طالبِ علم جواب سے پہلے یہ سمجھ لے کہ سوال دراصل ہے کیا؛ اور غیر سنجیدہ طرز سے احتراز کیا گیا ہے۔ مصنف نے طلبہ اور ائمہ کو اپنا مخاطب بتایا ہے۔
ناشر: مکتبہ ثمیر، مانچسٹر۔ طباعت پہلی بار جولائی ۲۰۲۰ء۔