
تحفۃ الطلباء سفینۃ البلغاء کی دو حصوں پر مشتمل اردو شرح ہے؛ پہلا حصہ مولانا مرغوب احمد لاجپوری نے اور دوسرا مولانا ثمیر الدین قاسمی نے لکھا۔
تحفۃ الطلباء سفینۃ البلغاء کی مکمل دو حصوں پر مشتمل اردو شرح ہے۔ پہلا حصہ مولانا مرغوب احمد لاجپوری نے لکھا اور دوسرا مولانا ثمیر الدین قاسمی نے۔ سرورق پر یہ تقسیم صاف لکھی ہے، اِس لیے شرح کے مصنفین کی حیثیت سے دونوں کا نام دیا گیا ہے۔
یہ کتاب عربی متن پڑھنے والے طلبہ کے لیے ہے۔ اِس میں فصاحت و بلاغت، علم المعانی، علم البیان اور صنعتوں کے مباحث کی تشریح کے بعد عروض اور قافیہ کے مسائل آتے ہیں۔ شرح کے ساتھ سوالات اور مشقیں بھی دی گئی ہیں، اِس لیے یہ صرف متن کا ترجمہ نہیں بلکہ اُس کے گرد بنایا گیا ایک درسی سلسلہ ہے۔
دیباچے میں اِس کے مشترک کام بننے کی تاریخ بھی محفوظ ہے۔ پہلے شارح کی تدریس کا سلسلہ منقطع ہونے کے بعد مولانا ثمیر الدین قاسمی نے باقی حصہ مکمل کرنے کی اجازت مانگی اور حاصل کی۔ اُن کا حصہ ۲۰ ربیع الاول ۱۴۱۵ھ، مطابق ۲۸ اگست ۱۹۹۴ء کو مکمل ہوا۔ یہ مکمل نسخہ مکتبہ ثمیر، مانچسٹر سے جاری ہوا۔