مواد پر جائیں
Mawlānā Samiruddin Qasmi Ṣāḥeb کی مہرSamiruddin Qasmi

بے وقت حج

Be-waqt Hajj

حج کی تاریخ مقدم، موخر ہونے سے بھی عوام کا حج ہو جائے گا

حج کی تاریخ ایک دن آگے یا پیچھے ہو جائے تو کیا حج ادا ہو جاتا ہے

موضوع
فقہ
زبان
اردو
دورانیہ
۹ صفحات
ڈاؤن لوڈ

بے وقت حج اُس سوال کا جواب ہے جو اُس وقت پوچھا جاتا ہے جب چاند نظر نہ آیا ہو اور قاضی کا فیصلہ ایک دن بعد کا ہو: اگر اُس فیصلے سے ایک دن پہلے حج کر لیا گیا تو حج ادا ہوا یا نہیں، فرض ساقط ہوا یا نہیں، اور کیا دوبارہ حج کرنا ہوگا۔ اُن کا جواب یہ ہے کہ حج ہو جائے گا، دو بنیادوں پر، اور دوسری بنیاد ہی اصل ہے۔

سوال خود اُنہی کے الفاظ میں پہلے صفحے پر ہے: اگر چاند نظر نہیں آیا، اور قاضی کے فیصلے سے ایک دن پہلے حج کر لیا گیا، تو حج ادا ہوا یا نہیں، فرض کی ادائیگی ہوئی یا نہیں، یا دوبارہ حج کرنا ہوگا؟

جواب، جس پر الجواب کا عنوان ہے، یہ ہے کہ حج ہو جائے گا اور دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں، اور اِس کی دو وجہیں وہ بیان کرتے ہیں۔

پہلی یہ کہ حج کا معاملہ قاضی کے ہاتھ میں ہے۔ قاضی کے فیصلے کے بعد عوام کے لیے یہ جائز ہو جاتا ہے کہ وہ اُس پر عمل کریں، خواہ فیصلہ خود ایک دن بعد ہی کا کیوں نہ ہو۔

دوسری وجہ ہی اصل ہے، اور وہ تقویم کی نہیں بلکہ حرج کی دلیل ہے۔ حج اپنے ہی متعین دن اور اپنی ہی متعین جگہ پر ہو سکتا ہے: وہ نویں ذی الحجہ ہے، اور وہ عرفات میں ہے، اِس کے علاوہ حج ہوتا ہی نہیں۔ اِس لیے اگر ایسے حج کو ادا نہ کہا جائے تو دور دراز سے آئے ہوئے لاکھوں لوگوں کو اگلے سال دوبارہ آنا پڑے گا۔ اور یہ، وہ کہتے ہیں، حرجِ عظیم ہے۔ اِسی حرج کی بنیاد پر یہی حکم ہوگا کہ اِس حج کو ادا قرار دیا جائے اور دوبارہ حج کرنے کا فتویٰ نہ دیا جائے۔ شریعت کا اصول یہی ہے، اور بات وہیں ختم ہو جاتی ہے۔

اِس کے نیچے چاند دیکھنے کا جو مسئلہ ہے وہ اتحادِ مطلع کا موضوع ہے، اور حساب پر رمضان اور عید کرنے کے خلاف دلیل حساب پر رمضان کرنا میں ہے۔

کتاب کھل رہی ہے…

100%