کس امام کی وفات کب ہوئی
Kis Imam ki Wafat Kab Hui
کون سے امام کی وفات کب ہوئی، اور ان کی تصانیف کیا ہیں
ائمہ کا جدول، اُن کے سنِ ولادت و وفات اور اُن کی کتابوں میں حدیثوں کی تعداد کے ساتھ
- موضوع
- حدیث
- زبان
- اردو
- دورانیہ
- ۴ صفحات
کس امام کی وفات کب ہوئی فقہ اور حدیث کے ائمہ کا ایک جدول ہے، جس میں ہر ایک کا سنِ ولادت و وفات ہجری میں، اور اُن کی تصانیف درج ہیں، اور حدیث کے مجموعوں کے ساتھ اُن میں موجود حدیثوں کی تعداد بھی۔ یہ امام ابو حنیفہؒ سے امام بیہقیؒ تک پھیلا ہوا ہے۔
چار صفحے، اور چاروں ایک ہی جدول ہیں: نمبر، نام، پیدائش، وفات، اور تصانیف۔ اِس میں کوئی نثر نہیں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ اِس شیلف پر مضمون کے بجائے ایک حوالے کے صفحے کے طور پر ہے۔
اِس کا آغاز ائمۂ فقہ سے ہوتا ہے: امام ابو حنیفہؒ (۸۰ھ-۱۵۰ھ، مسند امام اعظم اور فقہ اکبر)، امام مالکؒ (۹۵ھ-۱۷۹ھ، مؤطا ۳۰۶۹ حدیثیں)، امام ابو یوسفؒ (۱۱۳ھ-۱۸۲ھ، کتاب الخراج)، امام محمدؒ (۱۳۲ھ-۱۸۹ھ، تیس جلدیں)، امام شافعیؒ (۱۵۰ھ-۲۰۴ھ)۔ پھر بڑے محدثین سے گزرتا ہے: عبد الرزاقؒ (۱۲۶ھ-۲۱۱ھ، مصنف، ۲۱۱۹۹)، ابن ابی شیبہؒ (۱۵۹ھ-۲۳۵ھ، مصنف، ۳۷۹۳۰)، امام احمدؒ (۱۶۴ھ-۲۴۱ھ، مسند، ۲۷۱۰۰)، امام بخاریؒ (۱۹۴ھ-۲۵۶ھ)، امام مسلمؒ (۲۰۴ھ-۲۶۱ھ)، ابن ماجہؒ (۲۰۹ھ-۲۷۳ھ، ۴۳۴۱)، ابو داودؒ (۲۰۲ھ-۲۷۵ھ، ۵۲۷۴)، ترمذیؒ (۲۲۰ھ-۲۷۹ھ، ۳۹۵۶)، نسائیؒ (۲۱۵ھ-۳۰۳ھ، سنن صغریٰ، ۵۷۶۱)، طبرانیؒ (۲۶۰ھ-۳۶۰ھ، الکبیر، پچیس جلدیں)، دارقطنیؒ (۳۰۶ھ-۳۸۵ھ، ۴۷۹۰) اور بیہقیؒ (۳۸۴ھ-۴۵۸ھ، سنن کبریٰ، ۲۱۸۱۲)۔
اصل چیز حدیثوں کی تعداد ہے۔ سنین کی فہرست تو آسانی سے مل جاتی ہے؛ ایک ہی صفحے پر یہ بھی بتا دینا کہ ہر مجموعہ کتنا بڑا ہے، وہ چیز ہے جو ایک طالبِ علم کو کسی روایت کا محل متعین کرتے وقت اصل میں درکار ہوتی ہے۔ یہی کام، خود متونِ قدیمہ کے نیچے لا کر، اُن کی الھدایہ مع احادیثھا اور القدوری مع احادیثہ میں ہے۔
کتاب کھل رہی ہے…
آپ اِس صفحے پر رکے تھے: ۔
یہ براؤزر کتاب اِسی صفحے پر نہیں دکھا سکتا۔ اِس کے بجائے پی ڈی ایف کھولیں۔