
حنفیہ کا مسلک احتیاط پر ہے: نماز اور روزمرہ عمل کے وہ تیس مسئلے جو امام سے ہر ہفتے پوچھے جاتے ہیں، اور ہر ایک پر دونوں طرف کی آیات اور احادیث۔ اہلِ حدیث کی پانچ حدیثوں کے مقابلے میں حنفیہ کے لیے سات لائی گئی ہیں، اور ہر حوالہ صرف بارہ بنیادی کتابوں سے لیا گیا ہے۔
حنفیہ کا مسلک احتیاط پر ہے ایک ایسی کتاب ہے جو مدرسے کے بجائے مسجد کے امام کے لیے ہے۔ اِس میں نماز اور روزمرہ عمل کے وہ تیس مسئلے لیے گئے ہیں جو ہفتے ہفتے سامنے آتے ہیں، رفع یدین سے لے کر ایصالِ ثواب تک، اور ہر مسئلے پر دونوں طرف کی آیات اور احادیث یکے بعد دیگرے نقل کی گئی ہیں۔
کتاب کے شروع میں مصنف نے اپنی بات ایک ہی جملے میں رکھ دی ہے: حنفی مسلک پر عمل کرنے سے تمام احادیث پر عمل ہو جاتا ہے، اور آیت پر بھی۔ رفع یدین نہ کرنے سے ﴿وَقُومُوا لِلّٰهِ قَانِتِينَ﴾ (البقرہ ۲:۲۳۸) پر بھی عمل ہو جاتا ہے اور اُن بہت سی حدیثوں پر بھی جو ترکِ رفع یدین کی ہیں، جبکہ رفع یدین کرنے سے آیت پر پورا عمل نہیں ہوتا۔ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ نہ پڑھنے سے آیت (الاعراف ۷:۲۰۴) پر بھی عمل ہو جاتا ہے، اُن احادیث پر بھی، اور اقوالِ صحابہ پر بھی۔ آمین آہستہ کہنے سے آیت (الاعراف ۷:۵۵) اور آہستہ آمین کہنے کی حدیث، دونوں پر عمل ہو جاتا ہے۔ احتیاط سے مراد یہی ہے: وہ مسلک جس میں سب سے کم نصوص بغیر عمل کے رہ جاتی ہیں۔
مصنف نے اپنے لیے آٹھ اصول مقرر کیے اور کتاب کے شروع میں چھاپ دیے ہیں:
۱۔ استدلال صرف آیت، حدیث، قولِ صحابی اور قولِ تابعی سے کیا گیا ہے، علماء کی عبارتوں سے نہیں، تاکہ کتاب لمبی نہ ہو جائے۔
۲۔ ہر مقام پر واضح کیا گیا ہے کہ یہ آیت ہے، یہ حدیث، یہ قولِ صحابی اور یہ قولِ تابعی۔
۳۔ سارے حوالے صرف بارہ بنیادی کتابوں سے لیے گئے ہیں۔
۴۔ حنفی مسلک اور دوسرے مسلک، دونوں کے لیے حدیثیں لائی گئی ہیں۔
۵۔ اہلِ حدیث کی پانچ حدیثوں کے مقابلے میں حنفیہ کے لیے سات، اور سات کے مقابلے میں دس۔
۶۔ دونوں کی حدیثیں اِس لیے جمع کی گئی ہیں کہ دونوں فریقوں کو حدیث کی معلومات ہو جائے اور اختلاف کم سے کم ہو۔
۷۔ کتاب آسان ہے، اور موبائل میں رکھنے کے قابل ہے۔
۸۔ بعض جگہ مجبوراً حدیث کا لفظ آ گیا ہے حالانکہ وہاں قولِ صحابی یا قولِ تابعی ہے؛ اِس پر مصنف معذرت خواہ ہیں۔
اِس کے پیچھے کا سارا کام اُن ہی کا اپنا ہے۔ اثمار الہدایہ اور الشرح الثمیری ہدایہ اور قدوری کے ہر مسئلے پر احادیث فراہم کرتی ہیں، اور یہ کتاب اُنہی سے نکالا ہوا مختصر جواب ہے۔ بات یہ نہیں کہ حنفیہ کے پاس حدیث نہیں اور صرف قیاس ہے، بلکہ یہ کہ حدیثیں موجود ہیں اور کم ہی کہیں اِس طرح آمنے سامنے رکھی جاتی ہیں کہ ایک امام کی پہنچ میں ہوں۔
ناشر: مکتبہ ثمیر، مانچسٹر۔ کتاب کے چار ترجمے ہو چکے ہیں، اور ہر ترجمہ اِس سائٹ پر اپنے الگ ایڈیشن کی حیثیت سے موجود ہے:
- عربی، مترجم ڈاکٹر مفتی محمد اللہ الخلیلی اور مفتی ابو الفرح القاسمی۔
- انگریزی، مترجم ڈاکٹر مفتی محمد اللہ خلیلی قاسمی۔
- بنگلہ، مترجم اعنام الحق مسعود۔
- فارسی، مترجم محمد ابراہیم تیموری۔
عربی، انگریزی اور بنگلہ ایڈیشنوں میں اٹھائیس مسئلے ہیں، جیسا کہ اُن کے اپنے سرورق پر لکھا ہے۔ یہاں کا اردو ایڈیشن اور فارسی ایڈیشن تیس مسئلوں پر مشتمل ہیں۔